لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 99 فیصد امور پر اتفاق ہو چکا تھا تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناتجربہ کارانہ رویے اور من مانی کی وجہ سے یہ مذاکرات سبوتاژ ہوئے، جس کے بعد اب اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا باب مکمل ختم ہو چکا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن وفد نے انتہائی سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور 12 گھنٹے کے دوران 4 بار معاہدے کا ڈرافٹ فائنل ہوا، جسے وہ خود صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو دکھا کر آئے تھے۔
لیکن ہر بار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے فون پر ڈرافٹ تبدیل کرایا اور آخری مرحلے میں کے پی حکومت نے سیکیورٹی، پولیس ایکٹ اور انسدادِ دہشت گردی معاہدے سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے پی حکومت کے پاس فیصلے کا ویٹو پاور تھا تو سہیل آفریدی خود مذاکراتی میز پر آتے۔
وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ حکومت کسی صورت 9 مئی جیسے سانحے کو دوبارہ دہرانے نہیں دے گی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پرامن سیاسی احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن اسلام آباد پر چڑھائی کرنے یا قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اٹھنے والے تمام تر نقصانات کے ذمہ دار صرف اور صرف وزیراعلیٰ کے پی ہوں گے۔

