اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور 13 گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد بغیر کسی حتمی نتیجے اور معاہدے کے ناکام ہو گیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو منسوخ نہ کرنے اور جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
مذاکرات میں حکومتی وفد میں رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری، امیر مقام اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمان و نوید قمر شامل تھے، جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ نے کی۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ حکومت نے 4 بار تحریری معاہدے کا ڈرافٹ تبدیل کیا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی، 3 ایم پی او کے تحت گرفتار ارکان، اور جیل ملاقاتوں پر پیشرفت پر رضامندی ظاہر کی، تاہم کے پی حکومت اور اپوزیشن نے وفاقی پالیسی کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں فورسز کا ساتھ دینے اور تعاون کی آئینی یقین دہانی سے مکمل انکار کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی حدود میں لانگ مارچ یا انتشار کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات میں شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوا ہے اور حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کے ذاتی معالج اور وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی ملاقات کرانے سے معذوری ظاہر کی، جس پر بات نہ بن سکی۔ بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ ہمارا لانگ مارچ بحال ہے اور یہ ہمارا آئینی حق ہے، لہذا حکومت کو اسے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

