کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ریاست کا ساتھ نہ دیا تو وفاق کو خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کی طرف جانا پڑے گا۔
کراچی میں ‘گریٹر کراچی سیوریج پلان’ کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی بدامنی اور عدم تعاون پر فوری گورنر راج کا ذہن بنا لیا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے معاملے کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد گزشتہ 10 روز سے بند پڑا ہے اور کے پی حکومت کا سارا دھیان سیاست پر ہے جبکہ صوبے میں ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کر کے سیاسی حل نکالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی ہتھیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس آئینی ‘ایٹامک بم’ کو استعمال کیا جا سکتا ہے”۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ‘کے فور’ اور سکھر-حیدرآباد موٹروے کے منصوبوں میں ‘شہباز اسپیڈ’ دکھانے کی اپیل کی اور زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے اثرات سندھ اور کراچی تک پہنچتے ہیں، لہٰذا دہشت گردی کو سیاست سے الگ رکھ کر تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا پڑے گا۔

