اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ 13 گھنٹے سے جاری طویل مذاکرات کے آخری مرحلے میں صوبائی حکومت اپنے طے شدہ تمام وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک تفصیلی بیان میں محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا حکومت 72 گھنٹوں میں تحریری معاہدہ اور عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے، سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، اور صوبے میں دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے پر مکمل رضامند ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی غیر مبہم مذمت، افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور ان کے کیمپ ختم کرنے پر بھی اتفاق پایا گیا تھا۔
وزیر داخلہ نے مزید انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت نے مسلح افواج سے تعاون بڑھانے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنے اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔
تاہم، مذاکرات کے بالکل آخری مرحلے میں کے پی حکومت ان تمام نکات سے انحراف کر گئی۔ محسن نقوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور اس نازک موڑ پر قومی سیکیورٹی کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔
دوسری جانب، مذاکرات کے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے گنڈی چوک لکی مروت سے مرحلہ وار لانگ مارچ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جسے وفاقی حکومت اور پولیس نے اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

