سعودی عرب ہر خطرے اور حملے کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے: ولی عہد محمد بن سلمان
ریاض: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزاد محمد بن سلمان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مملکت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش یا حملے کا انتہائی مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور اس معاملے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں برتی جائے گی۔
سعودی شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ خطے کو بڑھتے ہوئے تنازعات سے محفوظ رکھنے، سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مملکت نے بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت کے لیے کثیر ملکی دفاعی بحری اتحاد کے قیام پر بھی کام شروع کر دیا ہے، تاہم انہوں نے آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا معاشی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی سخت مخالفت کی۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کو ناقابلِ تقسیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی افواج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی کامل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں، مسجد اقصیٰ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور سلامتی کونسل سے دیرپا سیاسی حل کا مطالبہ کیا۔
یمن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور حوثی گروپ پر خطے میں افراتفری پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
