پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ: صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات، مشترکہ کمیٹی قائم

اسلام آباد: ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایک اہم اور اعلیٰ سطحی بیٹھک ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور بالخصوص خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کا باضابطہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، رانا ثنا اللہ، شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پی ٹی آئی کی قیادت سے موجودہ سیاسی کشیدگی اور 4 اکتوبر کے متوقع لانگ مارچ سے پیدا شدہ صورتحال پر مذاکرات کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس میں حکومت کی طرف سے محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں۔ یہ مشترکہ وفد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں پی ٹی آئی قیادت سے باضابطہ گفتگو کرے گا۔

اعلامیے کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگرتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جبکہ وہاں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے آئینی و قانونی آپشنز پر بھی مشاورت کی گئی۔ دونوں راہنماؤں نے ملکی سلامتی، امن و استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام قومی اداروں اور سیاسی فریقین کے درمیان مؤثر تعاون اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔