پی ٹی آئی طے کرے وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا افغانستان کے ساتھ: عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو اب یہ واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے یا افغانستان اور دہشت گردوں کے ساتھ۔

اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے لیکن صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تمام تر توجہ صرف ایک قیدی کو جیل سے رہا کرانے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کی ’بی‘ ٹیم کا کردار ادا کر رہی ہے اور کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں ملنے والے این ایف سی فنڈز کو سیکیورٹی پر خرچ کرنے کے بجائے دھرنوں اور سیاسی جلسوں پر ضائع کر رہی ہے۔

وفاقی حکومت نے کے پی پولیس کے لیے جدید بلٹ پروف گاڑیاں دینے کی پیشکش کی جسے صوبائی حکومت نے رد کر دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے پولیس اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد افغانی ملوث پائے گئے ہیں اور افغانستان ایک ”سپر پراکسی“ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے جدید سسٹم نے ثابت کیا ہے کہ حال ہی میں دہشت گردوں کی جاری کردہ تصاویر افغانی شہریوں کی ہیں۔

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ کے پی حکومت اور وزیراعلیٰ کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں افغانستان کی جانب سے ہونے والے حملوں اور ڈرون کارروائیوں کی مذمت کرنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ انہوں نے کے پی حکومت پر زور دیا کہ وہ الزامات کے بجائے صوبے میں سیف سٹی منصوبے اور فارنزک لیبز قائم کر کے امن و امان کی سنجیدہ کوششیں کرے۔