اسلام آباد: پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے صوبہ نورستان کے حالیہ واقعے اور اندرونی جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور لغو قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک (Fact Check) بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کسی بھی قسم کی مسلح مزاحمت یا اندرونی جھڑپوں سے کوئی تعلق نہیں۔
افغان طالبان رجیم کی جانب سے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان حکام ان الزامات کے حق میں کوئی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ویڈیوز طے شدہ انداز میں تیار کی گئی معلوم ہوتی ہیں جو پاکستان کے ملوث ہونے کو ثابت نہیں کرتیں۔
ترجمان وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی مسلسل رپورٹس افغان سرزمین پر عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ طالبان حکومت اپنے داخلی مسائل، اختلافات اور خواتین، بچوں و اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف عملی و قابلِ تصدیق کارروائی کرے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے عالمی وعدوں کی پاسداری کرے۔

