لاہور: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے مبینہ مالی معاملات اور ڈسپلن سے متعلق تحقیقات میں تاخیر ہو رہی ہے، جب کہ کرکٹر امام الحق نے اپنے موبائل فون کے فارنزک تجزیے کے لیے مکمل تعاون کیا ہے۔
این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق محمد رضوان کے موبائل فون کے فارنزک تجزیے کے لیے ان کی موجودگی ضروری ہے تاکہ ڈیٹا ضائع نہ ہو، تاہم بارہا رابطے اور سہولت کی پیشکش کے باوجود کرکٹر کی جانب سے مثبت جواب نہیں ملا۔ ادارہ 28 ستمبر کو ایک بار پھر ان سے رابطہ کرے گا اور عدم تعاون پر قانون کے مطابق تحریری نوٹس جاری کیا جائے گا۔
دوسری جانب رضوان کے خاندانی و قانونی ذرائع کا موقف ہے کہ کرکٹر کو ابھی تک انکوائری کمیٹی کا نیا نوٹس نہیں ملا اور ان کے سوالات کے جواب بھی نہیں دیے گئے، نوٹس ملنے پر وہ پیشی کے لیے تیار ہیں۔
یہ معاملہ دورہ انگلینڈ کے دوران ڈریسنگ روم لیکس اور آن لائن بیٹنگ کے خدشات پر سامنے آیا تھا، جس پر پی سی بی اور این سی سی آئی اے کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کارروائی کر رہی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم پہلے ہی محمد رضوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں انکوائری میں تعاون اور شوکاز کا جواب دینے کی ہدایت کر چکی ہیں۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ حقیقت سامنے لا کر کھلاڑیوں کو جلد کلیئر کرنا ہے۔

