سہیل آفریدی جا رہے ہیں یا علی امین آ رہے ہیں، کچھ پتا نہیں: گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سیاسی صورتحال اور امن و امان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جا رہے ہیں اور علی امین گنڈاپور آ رہے ہیں، کچھ پتا نہیں ہے“، تاہم اگر وزیراعلیٰ ہاؤس سے باقاعدہ آئینی طریقہ کار کے تحت استعفیٰ موصول ہوا تو وہ اسے فوری منظور کر لیں گے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی نے پی ٹی آئی قیادت کو اسلام آباد کی جانب مارچ ختم کرنے اور احتجاج ملتوی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت شدید دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں، ایسے میں اسلام آباد پر چڑھائی کا نتیجہ صفر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اس وقت لانگ یا شارٹ مارچ کے قابل نہیں رہی اور صرف تاریخ پر تاریخ دے رہی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ ڈرون حملوں کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن افغانستان سے ہونے والے کواڈ کاپٹر حملوں پر خاموش رہتے ہیں اور کے پی اسمبلی میں اس کے خلاف کوئی قرارداد بھی نہیں لائی گئی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے پشاور گورنر ہاؤس میں وفاقی کابینہ اور اپیکس کمیٹی کا خاص اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ ضد اور انا کو چھوڑ کر دہشت گردی کے خاتمے اور قیامِ امن کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔