افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت شدید، متعدد چوکیوں پر اپوزیشن کا قبضہ

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت اور کارروائیوں میں شدید تیزی آ گئی ہے، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضے اور 17 طالبان اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب طالبان فورسز نے افغانستان فریڈم فرنٹ کی پوزیشنوں پر قبضے کے لیے ڈرون حملے کیے، جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپوزیشن کمانڈوز نے طالبان اہلکاروں کو ناری اور ارندو کے علاقوں کی طرف پسپائی پر مجبور کر دیا۔

اس کے علاوہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کابل، قندھار، بدخشاں، پروان، پکتیا اور سرِ پل سمیت مختلف اضلاع میں مزاحمتی گروپوں کے حملوں میں متعدد طالبان ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ سابق افغان جنرل سمیع سادات کی زیرِ قیادت افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی کارروائیوں میں ستمبر کے دوران اب تک 69 سے زائد طالبان اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح نے ایک انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان اب محدود پیمانے پر ایک نئی خانہ جنگی میں داخل ہو چکا ہے جو آنے والے وقت میں مزید پرتشدد اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔

تاہم طالبان کی انٹیلی جنس سے منسلک میڈیا نے نورستان کے ضلع کامدیش سے فریڈم فرنٹ کے 6 ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے افغان فریڈم فرنٹ نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔