جنگ بندی تجویز پر ٹرمپ کے ردعمل کا علم ہے، ثالثوں کے ذریعے امریکا سے باضابطہ جواب کے منتظر ہیں: عباس عراقچی
تہران: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے اپنی پیش کردہ تجویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی ردِعمل دیکھ لیا ہے، تاہم ایران کو ابھی تک ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کا کوئی باضابطہ اور حتمی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا) کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو اپنی واضح شرائط پیش کی تھیں۔ ان شرائط میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل پر عائد پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور حتمی مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش شامل تھی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران فی الحال ثالثوں کی جانب سے امریکا کے حتمی اور باضابطہ مؤقف کا منتظر ہے اور اسی کی بنیاد پر آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔ ان کے بقول صرف بات چیت کے ذریعے طے پانے والا سفارتی حل ہی اس تعطل کو ختم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی اور مذاکرات کی تجویز کو فی الحال مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو یقین نہیں کہ تہران امریکی مطالبات مکمل تسلیم کرے گا، اسی لیے انہوں نے نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کے امکان کا اشارہ بھی دیا ہے، تا ہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صدر ٹرمپ کے موقف میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔

