ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ آخری مراحل میں داخل، صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کا پاکستانی ثالثی پر مکمل اعتماد
امریکہ اور ایران کے درمیان جنیوا میں تاریخی امن معاہدہ طے پانے کے امکانات قوی تر ہو گئے ہیں اور دفتر خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ عمل پاکستان کی موجودگی میں انجام پائے گا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر حکام اور لیگل ٹیم کو جنیوا بھیجنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں کیونکہ پاکستان نے پچھلے چند ماہ میں بطور ثالث دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور براہ راست مذاکرات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے اس کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو عظیم قرار دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود ایران کے دو بار دورے کیے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حال ہی میں اہم پیغامات ایرانی قیادت تک پہنچائے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر اس معاہدے کی میزبانی کی پیشکش کی ہے جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں تناؤ کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ ایرانی وزارت خارجہ نے مقام اور وقت کے حوالے سے حتمی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے وفود جنیوا میں ملاقات کریں گے تاکہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
ایرانی لیگل ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں 14 گھنٹے تک جاری رہنے والے تاریخی مذاکرات میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے پر بات کی تھی جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک تھے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ایرانی ہم منصب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اسحاق ڈار کے مطابق یہ پاکستان کی کامیاب ترین سفارت کاری ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی اس کی ثالثی کے قائل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کل پاکستان کا اہم دورہ کریں گے جہاں جنیوا معاہدے سے قبل حتمی مشاورت کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ رواں ہفتے کے آخر تک یورپ میں کسی مقام پر معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس پورے عمل کا مرکزی حصہ ہے کیونکہ اس نے تاریخ میں پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی ہے۔

