وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حالیہ انتخابات کے بعد سب سے بڑی اور اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اس لیے جمہوری روایات اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے انہیں حکومت بنانے کا حق ملنا چاہیے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت کرتی ہے، تاہم ان کی جماعت نے گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے تمام منتخب اراکین حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے کیونکہ ن لیگ نے ہمیشہ اپنی حلیف جماعتوں کے ساتھ عزت و احترام کا رشتہ برقرار رکھا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے حکومت سازی کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی اکثریت کو تسلیم کرنا جمہوری روایت کا تسلسل ہے اور وہ اس دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے گورنر اور ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ مسلم لیگ ن کے پاس ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ جمہوری اقدار اور سیاسی استحکام کے لیے یہ فیصلہ انتہائی ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ہر مشکل وقت میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم رکھا ہے اور موجودہ فیصلہ بھی اسی سیاسی روش کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان انتخابات کے حتمی نتائج کا نوٹیفکیشن چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے 14 روز کے اندر جاری کر دیا جائے گا، جس کے بعد حکومت سازی کا عمل باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے گا۔ اس سیاسی پیش رفت سے خطے میں استحکام اور اتحادی جماعتوں کے درمیان تعاون کی نئی راہ متعین ہونے کی توقع ہے۔

