پاکستانی ثالثی رنگ لے آئی، وزیراعظم شہباز شریف کا ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے مسودے پر حتمی اتفاق کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تاریخی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی انتھک ثالثی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے حتمی متن پر متفقہ فیصلہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک اہم پیغام میں اس تاریخی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اس وقت دونوں فریقین کے ساتھ مل کر اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے انتہائی قریبی طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے کیونکہ دونوں ممالک اس اہم ترین امن معاہدے کے مسودے پر مکمل طور پر متفق ہو چکے ہیں۔

اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے دشمنوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی شدید ثالثی کوششوں کے دوران ان عناصر کی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر ہے جو اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مسلسل غلط معلومات کی مہم چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے تمام عناصر کے پیدا کردہ شور اور منفی پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کے حتمی مسودے پر فریقین کا مکمل اتفاق ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی ان کامیاب سفارتی کاوشوں اور مہم کے اعتراف میں اس تاریخی امن معاہدے کو اسلام آباد ٹاکس کا نام دیا جائے گا، جس نے دونوں ممالک کو جنگ کے خاتمے اور امن کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اس تاریخی امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں منعقد کی جائے گی۔ اس انتہائی اہم اور عالمی سطح پر اثر انداز ہونے والی تقریب میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین حکام شرکت کریں گے جہاں وہ معاہدے کے حتمی متن پر دستخط کر کے اس کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔

پاکستان کی ان مخلصانہ اور کامیاب ترین کوششوں کے اعتراف کے طور پر پاکستانی حکام کو بھی اس عالمی تقریب میں بطور معزز مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار اسی طرح جاری رکھے گا اور اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد تک فریقین کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔