وفاقی بجٹ 27-2026 پیش: کل حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر، دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص اور تنخواہ دار طبقے کو بڑا ٹیکس ریلیف
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی کے انتہائی ہنگامہ خیز اجلاس میں پیش کر دیا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے آغاز پر ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان نے شدید نعرے بازی کی اور آزاد ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
وزیرِ خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی قیادت بالخصوص میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، چوہدری شجاعت حسین اور دیگر قائدین کی رہنمائی کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔
انہوں نے عسکری محاذ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں ہماری سرحدوں پر ہونے والی بھارتی جارحیت کا مسلح افواج نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دشمن چند گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا۔ آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا "اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ” دونوں برادر ممالک کے رشتوں کو نئی اور مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے ملکی معیشت کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور امریکہ ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باوجود معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرحِ نمو 6.1 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے، جو پچھلے 4 سال میں بلند ترین سطح ہے۔ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے زائد ہو چکے ہیں جو 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلاتِ زر کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد اور اوسط افراطِ زر (مہنگائی) کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.6 فیصد ہوگا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 15 ہزار 264 ارب روپے لگایا گیا ہے جو رواں مالی سال سے 17.6 فیصد زیادہ ہے۔ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب روپے ہوگا، جس کے بعد وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے رہے گی۔
وفاق کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے ہے، جس میں سے سب سے بڑا حصہ یعنی 8 ہزار 54 ارب روپے قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 495 ارب روپے ہے، جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے ملکی دفاع کو اہم ترین ترجیح قرار دیتے ہوئے اس قومی فرض کے لیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مجموعی پنشن اخراجات کے لیے 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جس میں ملٹری پنشن کے لیے 822 ارب اور سول پنشن کے لیے 272 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈیز کے لیے 1091 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
عوامی اور کارپوریٹ ریلیف کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ پر 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ پر 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
بڑے کاروباروں پر کارپوریٹ ٹیکس 28 فیصد سے کم کر کے 27 فیصد کر دیا گیا ہے، تاہم بینکوں، فرٹیلائزر اور پٹرولیم کمپنیوں پر سرچارج برقرار رہے گا۔
تعمیراتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے بلڈرز اور فائلرز کے لیے جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے جڑی 40 صنعتیں چلیں گی۔
بیرونِ ملک سے آن لائن خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد جبکہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد فکسڈ ٹیکس کی رعایت میں 30 جون 2029 تک توسیٰع کر دی گئی ہے جبکہ کرپٹو ٹرانزیکشن پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں سماجی تحفظ کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا مجموعی بجٹ 2680 ارب روپے مختص کیا گیا ہے جو 12 ملین خاندانوں کا احاطہ کرے گا، جبکہ اس کے فلیگ شپ اقدامات کے لیے 838 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو پچھلے سال سے 17 فیصد زیادہ ہیں۔
نیشنل اکنامک کونسل کے منظور کردہ مجموعی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 3 ہزار 675 ارب روپے ہے، جس میں وفاق کا حصہ 1 ہزار ارب اور صوبوں کا حصہ 2 ہزار 224 ارب روپے ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں نقل و حمل کے لیے 365 ارب روپے مختص ہیں، جس میں کراچی چمن شاہراہ این-25 کو دو رویہ کرنے کے لیے 100 ارب اور سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے شامل ہیں، جبکہ ریلوے ایم ال ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
آبی وسائل کے لیے 103 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب اور داسو پن بجلی کے لیے 15 ارب روپے شامل ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے، دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے اور صحت کے منصوبوں کے لیے 25 ارب 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 1.851 ارب روپے مختص ہیں، جس میں اسلام آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ارشد ندیم اور شہباز شریف ہائی پرفارمنس اسپورٹس اکیڈمی کے لیے 250 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔

