وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کی منظوری دے دی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا خصوصی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اجلاس کے دوران سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یہ اضافہ دو مختلف مراحل میں کیا جائے گا، جس کے تحت گریڈ 1 سے لے کر گریڈ 16 تک کے چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ کیا جائے گا تاکہ انہیں مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے۔ وفاقی کابینہ سے اس اہم فنانس بل کی منظوری کے فوری بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی کے اجلاس میں نئے مالی سال کا یہ وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج موجودہ حکومت اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے اور انہیں پوری توقع ہے کہ یہ تیسرا بجٹ ملکی معیشت کو مزید تیزی کے ساتھ آگے لے کر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود ایک متوازن اور بہتر بجٹ پیش کرنے کی مخلصانہ کوشش کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ مہنگائی کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آئی ہے لیکن خلیج کی حالیہ صورتحال کے باعث اس میں تھوڑا سا عارضی اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم تمام تر چیلنجز کے باوجود معیشت مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں ساتھ دینے پر تمام اتحادی جماعتوں اور آئی ایم ایف کی معاونت پر بھی تشکر کا اظہار کیا۔

بجٹ تجاویز کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد موجودہ ٹیکسوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز کو مکمل طور پر واپس لے لیا گیا ہے جبکہ اسٹیشنری اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز اب بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

اس کے علاوہ بجٹ میں ماحول دوست مقامی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جس سے بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔