ٹرمپ کا آج رات تہران پر بمباری اور خارگ جزیرے سمیت تیل و گیس کے مراکز پر قبضے کا اعلان

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگی اقدامات کا اب تک کا سب سے بڑا اور ہولناک اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آج رات ایران پر انتہائی سخت اور بڑے پیمانے پر تابڑ توڑ حملے شروع کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد بہت جلد ایران کے تیل و گیس کے تمام بنیادی ڈھانچے پر امریکی کنٹرول قائم کر لیا جائے گا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر جاری بیانات اور میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ "ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور فضائی دفاعی صلاحیتیں پہلے ہی مکمل طور پر مفلوج اور تباہ ہو چکی ہیں۔ ہم نے گزشتہ رات ہی ایران پر 25 کروڑ ڈالر مالیت کے بم گرائے ہیں۔ ان کے پاس اب کوئی دفاع نہیں بچا، وہ ہتھیار ڈال چکے ہیں بس انہیں ابھی اس بات کا اندازہ ہونا باقی ہے۔ ہمارے طیارے تہران کے اوپر پرواز کر رہے ہیں اور ایرانی اس سے بے خبر ہیں۔ آج رات ہونے والی بمباری اس سے کہیں زیادہ بڑی اور طاقتور ہو گی۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح ایران کی خام تیل برآمدات کے سب سے اہم مرکز "خارگ جزیرے” (Kharg Island) اور دیگر توانائی تنصیبات کا کنٹرول سنبھالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا مستقبل میں ایران کی آئل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا اور یہ بالکل اسی طرز پر ہوگا جیسے امریکا نے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں کیا تھا، جس کا نتیجہ دونوں ممالک کے لیے بہترین رہا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فوجیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ ایران کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے کیونکہ وہ امریکی فوجیوں کو زمین پر بڑی جنگ میں نہیں اتارنا چاہتے۔

امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران سے معاہدے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں لیکن وہ ‘مغرور’ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "میں ایران میں عام شہریوں کے پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانا پسند نہیں کروں گا کیونکہ اس سے لوگ پینے کے پانی سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ ایران جب چاہے شکست کا سفید جھنڈا لہرا سکتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہو سکتا ہے جہاں وہ کہہ دیں کہ ہم نے ہار مان لی۔” دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کر دیا ہے کہ سپریم لیڈر ٹرمپ سے کسی صورت ملاقات نہیں کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی معطل ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر خام تیل کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے سب سے بڑے معاشی لائف لائن ‘خارگ جزیرے’ کو نشانہ بنایا یا اس پر قبضہ کیا تو یہ ایرانی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا، تاہم یہ عمل امریکا اور خطے کے لیے بھی سنگین تنازعات اور جنگ کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔