ایران کے دارالحکومت تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی سرکاری تدفین کی تقریب کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور اب اس کے جون کے آخر یا جولائی کے آغاز میں منعقد ہونے کا قوی امکان ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئی پیش رفت کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات محرم الحرام کے دوسرے عشرے میں ادا کیے جانے کی توقع ہے، جو کہ 26 جون سے 5 جولائی کے درمیان کا وقت بنتا ہے۔
اس اہم اعلان نے تدفین کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو ایک نئی سمت دے دی ہے، کیونکہ اس سے قبل ایسی اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ تدفین محرم الحرام کے بالکل آغاز میں ہی انجام دی جائے گی تاہم اب اس شیڈول کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
میئر تہران علی رضا زاکانی کے باضابطہ بیان کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ سرکاری سطح پر تقریب کے وسیع انتظامات اور سکیورٹی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیڈول میں یہ اہم تبدیلی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی تدفین کی اس تقریب میں بہت بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی اہم ترین شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث تمام تر ضروری انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے انتظامیہ کو مزید وقت درکار ہے۔ تہران انتظامیہ نے تاحال تدفین کی کسی ایک حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن اس سلسلے میں کام تیزی سے جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سرکاری ادارے تقریب کے انتظامی اور سکیورٹی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اسی تناظر میں نئی تاریخ کا حتمی تعین کیا جائے گا تاکہ تمام امور کو مؤثر اور پرامن انداز میں مکمل کیا جا سکے۔
سیاسی اور مذہبی حلقوں کی نظریں اب تہران انتظامیہ کے آئندہ باضابطہ اعلان پر مرکوز ہیں، جس میں تدفین کی حتمی تاریخ، مقام اور سرکاری تقریبات کے مکمل شیڈول سے متعلق تمام تفصیلات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق جیسے ہی سکیورٹی اور لاجسٹکس کے انتظامات مکمل ہوں گے، عوام کو سرکاری طور پر آگاہ کر دیا جائے گا۔

