امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شمالی کیرولائنا کے فوجی اڈے سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے اور انہیں توقع ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو نتائج ایران کیلئے “بہت برے” ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے ایران میں ممکنہ اقتدار کی تبدیلی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دوسرا بحری بیڑہ خطے کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کیریبین سمندر سے مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ پہلے سے موجود امریکی بحری قوت میں شامل ہو گا۔

اس سے قبل یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز خطے میں تعینات ہیں۔

یہ اعلان بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سامنے آیا جسے علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب خلیجی عرب ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے پورے خطے میں ایک نئی بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔