بنگلا دیش انتخابات میں بی این پی کی بھاری اکثریت، طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار

الیکشن کمیشن بنگلادیش نے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی۔

سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پارٹی نے 209 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور نیشنل سٹیزنز پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کیں۔

آزاد امیدواروں سمیت دیگر جماعتوں نے بھی محدود کامیابی حاصل کی، جبکہ ایک نشست کے انتخابات امیدوار کے انتقال کے باعث ملتوی ہوئے۔

بی این پی کے سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی جانب سے نتائج پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم جماعت نے کارکنان سے جشن کے بجائے شکرانے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی نے بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی، تاہم قیادت نے تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بی این پی کی قیادت میں اتحاد کے منشور میں معاشی بہتری، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور حکومتی مدت کی حد سے متعلق اصلاحات شامل بتائی جا رہی ہیں۔

یہ انتخابات ملک میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد نہایت اہم قرار دیے جا رہے تھے؛ 2024 کی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا، جبکہ ان کی جماعت عوامی لیگ کو اس بار انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا اور آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم میں بھی اکثریت نے تجاویز کے حق میں ووٹ دیا۔

بنگلا دیش میں ہونے والے انتخابات پر بین الاقوامی سطح پر ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ آصف علی زرداری اور شہباز شریف نے انتخابات پر مبارکباد دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ امریکی سفارتخانہ ڈھاکا اور چینی سفارتخانہ ڈھاکا نے بھی نئی قیادت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی ہے۔