ڈھاکہ: بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو سبقت حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد منعقد ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے دو دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا اور عبوری حکومت نے انتخابات کرانے کا وعدہ پورا کیا۔
ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی جبکہ خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر مختص ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد ہے جن میں مرد اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے، اور پہلی مرتبہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت سے بیرون ملک مقیم لاکھوں افراد مستفید ہوئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے اور کسی بڑی دھاندلی کی شکایت سامنے نہیں آئی، تاہم عوامی لیگ پابندی کے باعث انتخابی عمل سے باہر رہی۔
ابتدائی گنتی میں بی این پی تقریباً 50 نشستوں پر آگے جبکہ جماعت اسلامی 18 نشستوں پر سبقت لیے ہوئے ہے، اور مکمل نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اب تک 38 نشستوں کے مکمل نتائج سامنے آئے ہیں جن میں بی این پی نے 23 اور جماعت اسلامی نے 13 نشستیں حاصل کیں جبکہ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بی این پی 82 اور جماعت اسلامی 29 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی پوزیشن واضح ہونا باقی ہے۔
حکام کے مطابق نتائج میں تاخیر کی ایک وجہ سفید پارلیمانی بیلٹ پیپر کے ساتھ گلابی رنگ کے ریفرنڈم بیلٹ کی گنتی اور امیدواروں کی بڑی تعداد ہے۔
الیکشن کمیشن نے ملک بھر کی مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں امن و استحکام کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کی اور انتخابی عمل میں تعاون پر سیاسی جماعتوں، اداروں اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا۔
یاد رہے کہ 300 براہ راست منتخب نشستوں میں سے 151 حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنانے کی اہل ہوگی جبکہ ایک نشست پر الیکشن ملتوی کر دیا گیا ہے اور حتمی نتائج آئندہ دنوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

