امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شدید لڑائی کے دوران 10 طیارے گرائے گئے تھے اور صورتحال ایٹمی تصادم کے قریب پہنچ چکی تھی۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت امریکی مداخلت نہ ہوتی تو تنازعہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ٹیرف اور دیگر معاشی اقدامات کی دھمکی دے کر فریقین کو پیغام دیا، جس کے بعد کشیدگی میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں دونوں ممالک شدت سے لڑ رہے تھے اور بروقت سفارتی اقدامات نے ممکنہ تباہ کن نتائج کو روکنے میں کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان کے وزیراعظم نے جنگ رکوانے پر اعتراف کیا کہ اس اقدام سے لاکھوں جانیں بچیں، جبکہ ان کے بقول وہ اس سے قبل بھی کئی تنازعات کو معاشی دباؤ کے ذریعے ختم کروا چکے ہیں۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات کی اور کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو یہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کا امکان موجود ہے اور خطے میں امریکی عسکری موجودگی مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اس بار مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو یقینی بنائے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران مذاکرات کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم اگر بات چیت نتیجہ خیز نہ ہوئی تو امریکا سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اقدامات کا انحصار مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی پر ہوگا۔

