اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی جاری کردہ رپورٹ میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان حکام مختلف دہشت گرد گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض رکن ممالک نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ساتھ تربیتی کیمپوں اور وسائل کے تبادلے میں تعاون کیا، جس سے خطے میں سلامتی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب علاقائی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں نے افغانستان کو داخلی و خارجی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی بندش کا فیصلہ سیکیورٹی نقطہ نظر سے ایک مناسب اور مؤثر حکمت عملی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ سرحدی نظم و نسق اسلام آباد کے لیے صرف تجارت یا کسٹمز کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا مسئلہ ہے۔
یوریشیا ریویو میں شائع تجزیے کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا پڑے، جبکہ پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ کابل کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شدت پسند عناصر کی پشت پناہی جاری رکھیں گے یا خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ دیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشت گرد سرگرمیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ ایران اور تاجکستان کی سلامتی کو بھی متاثر کیا ہے، جس سے علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت مزید اجاگر ہوئی ہے۔

