اسلحہ فروخت تنازع، چین نے امریکا کو محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا

بیجنگ: چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کے معاملے پر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ چین بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان سے متعلق معاملات میں انتہائی احتیاط سے کام لے کیونکہ یہ مسئلہ چین کے لیے حساس ترین معاملات میں شمار ہوتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کا اپریل میں چین کا دورہ متوقع ہے جبکہ حال ہی میں صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا جسے امریکی صدر نے مثبت اور شاندار قرار دیا۔

بات چیت کے دوران تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس یوکرین تنازع، ایران کی صورتحال اور توانائی سمیت مختلف موضوعات زیر بحث آئے۔

امریکی صدر کے مطابق چین کی جانب سے امریکا سے تیل، گیس، زرعی مصنوعات کی خریداری اور طیاروں کے انجنوں کی فراہمی سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔

ادھر چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ امریکا چین تعلقات میں تائیوان کا معاملہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور تائیوان کو اسلحے کی ممکنہ فروخت تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اربوں ڈالر مالیت کے دفاعی نظام تائیوان کو فراہم کرنے کے منصوبے پر بیجنگ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔