ایران امریکا جوہری مذاکرات کا پہلا مرحلہ ختم، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا مثبت پیش رفت کا عندیہ

عمان کی میزبانی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے، جس میں ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکی وفد کی سربراہی مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے کی۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذاکرات میں بات چیت کے دو دور ہوئے جس کے بعد اجلاس کو فی الحال ختم کر دیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے دھمکیوں اور دباؤ سے اجتناب ناگزیر ہے، اور ایران نے یہ مؤقف واضح طور پر سامنے رکھا ہے تاکہ بات چیت کا عمل جاری رہ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات مجموعی طور پر مثبت ماحول میں ہوئے، دونوں جانب سے خدشات اور خیالات کا تبادلہ کیا گیا اور اگر یہی فضا برقرار رہی تو جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایک مثبت فریم ورک تک پہنچنا ممکن ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اگلے مذاکرات کی تاریخ، مقام اور طریقہ کار عمان کے ساتھ مشاورت کے بعد طے کیے جائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعتماد کی فضا مذاکرات کی کامیابی کے لیے ضروری ہے، تاہم جون میں ایران کے تین جوہری مقامات پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والے اعتماد کے فقدان کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

دوسری جانب انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عمان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور امریکی وفد کے ساتھ طویل اور سنجیدہ گفتگو ہوئی جسے ایک اچھا آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔