ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر حملہ کیا تو یہ تنازع محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے میں جنگ کی صورت اختیار کر لے گا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر بار بار جنگی جہازوں اور بحری بیڑوں کی بات کرتے ہیں، مگر ایرانی قوم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، تاہم اگر ایرانی قوم کو ہراساں کیا گیا یا حملہ کیا گیا تو سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اگر اس بار جنگ مسلط کی گئی تو وہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور مزاحمت کی قیمت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ انسانی حقوق جیسے دعوے محض بہانے ہیں۔
ادھر ایران پر امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں کے تناظر میں گردش کرنے والی خبروں کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کئی ہفتوں بعد عوامی سطح پر منظرعام پر آئے۔ انہوں نے انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ پر بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کے مزار پر حاضری دی اور نماز ادا کی۔ سرکاری سطح پر جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کو اندرونی استحکام اور بیرونی دباؤ کے مقابل عزم کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، متعدد ڈسٹرائر اور دیگر جنگی بحری جہاز تعینات ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

