یورپی یونین نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

یورپی یونین نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس (آئی آر جی سی) کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے مطابق یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ کن پیش رفت ہوئی ہے اور رکن ممالک قانونی و تکنیکی مراحل مکمل کرنے کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ اثاثوں، مالی سرگرمیوں اور سفری معاملات پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ ایسا نظام جو اپنے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت استعمال کرے اور ہزاروں افراد کو قتل کرے، اسے عالمی سطح پر جوابدہ ہونا پڑتا ہے اور ایسے طرزِ عمل کو دہشت گردی کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے یورپی یونین کے فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ یورپ اس اقدام کے ذریعے ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی کر رہا ہے جس کے خطے اور دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جبکہ ایرانی مسلح افواج نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید ہے۔

واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایران کی مسلح افواج کا ایک اہم حصہ ہے جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد قائم ہوا، براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہے اور ایران کے دفاع، بیرونی آپریشنز، بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگراموں سمیت خطے میں اثر و رسوخ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

اس فورس کے فعال اہلکاروں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ ریزرو سمیت یہ تعداد چھ لاکھ سے زائد ہے، اور امریکا پہلے ہی 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔