مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کی آخری وارننگ دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا ایک بہت بڑا بحری بیڑا تیزی سے بھرپور طاقت، جوش اور واضح مقصد کے ساتھ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنا مشن فوری مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور معاملہ نہایت سنجیدہ ہے، ایران کو چاہیے کہ جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایسا منصفانہ اور مساوی معاہدہ کرے جس میں جوہری ہتھیار شامل نہ ہوں اور جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کو ماضی میں بھی معاہدہ کرنے کا کہا تھا، لیکن انکار کے بعد آپریشن مڈنائٹ ہیمر ہوا جس کے نتیجے میں ایران کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، اور اگر اب بھی معاہدہ نہ کیا گیا تو آئندہ حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں، بات چیت اسی صورت ہو سکتی ہے جب دباؤ اور غیر معمولی مطالبات ختم کیے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔

ادھر ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے اور مسائل کو مرحلہ وار حل کیا جائے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے بے مثال طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے کی تیز رفتار نقل و حرکت کو ممکنہ طور پر ایران پر دباؤ یا فوجی کارروائی کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔