ٹی وی میزبان ندا یاسر ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ایک حالیہ ویڈیو کلپ میں، جو تیزی سے وائرل ہوا، ندا یاسر نے کہا کہ گھروں میں کھانا پہنچانے والے کئی ڈیلیوری رائیڈرز جان بوجھ کر کھلے پیسے ساتھ نہیں رکھتے تاکہ صارفین مجبوراً پوری رقم یا اضافی ٹِپ دے دیں۔ ان کے مطابق، رائیڈرز اکثر یہ کہہ کر بہانہ بناتے ہیں کہ ان کے پاس چینج نہیں، جو ان کے بقول درست رویہ نہیں۔
ندا نے مزید کہا کہ اگر انہیں بھی کھلے پیسوں کی ضرورت ہو تو وہ رائیڈر کو کھڑا رکھتی ہیں اور ڈرائیور کو پیسے تبدیل کروانے بھیجتی ہیں، تاکہ رائیڈرز دوبارہ ایسی "چال” نہ چلیں۔ ان کے اس مؤقف سے شو میں موجود اداکاراؤں نے تو اتفاق کیا، مگر سوشل میڈیا صارفین شدید تقسیم نظر آئے۔
بعض صارفین نے کہا کہ رائیڈرز روزانہ چند سو روپے کماتے ہیں، اور اگر انہیں ٹپ مل بھی جائے تو اس میں برائی نہیں، جبکہ کئی لوگوں نے ندا یاسر کے اندازِ بیان کو تحقیر آمیز قرار دیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ 50 یا 100 روپے دینے سے کسی کا کچھ نہیں جاتا، لیکن محنت کشوں کو شرمندہ کرنا درست نہیں۔
دوسری جانب، اداکارہ و میزبان فضا علی نے ندا یاسر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فوڈ رائیڈرز خراب موسم، رات کی تاریکی، اور خطرناک حالات میں بھی کھانا پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کسی کے بیٹے، باپ اور کئی گھروں کے واحد کفیل ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ضروری ہے چاہے ٹپ دی جائے یا نہ دی جائے۔
فضا علی کی پوسٹ کو بھرپور حمایت ملی، اور صارفین نے رائیڈرز کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور جدوجہد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ ٹپ لازمی نہیں، مگر عزت دینا ہر فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

