اسلام آباد: ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں فریقین نے کل دوپہر 2 بجے دوبارہ مل بیٹھنے پر اتفاق کیا ہے۔
مذاکرات میں اپوزیشن کی نمائندگی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ نے کی، جبکہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری، طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق نے بطور سہولت کار کی۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات، علاج اور ان کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا، اور واضح کیا کہ عمران خان سے مشورے کے بغیر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب حکومتی وفد نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب طے شدہ لانگ مارچ کو منسوخ یا ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی امن و امان اور دہشت گردی کی صورتحال کے باعث اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت جملوں کے تبادلے اور مطالبات کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گفتگو درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور امید ہے کہ کل کا اجلاس مثبت رہے گا۔
تاہم علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل حکومت کی نیت پر منحصر ہے، اور جب تک کوئی تسلی بخش حل نہیں نکلتا، لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

