اداکارہ ماہرہ خان نے کہا ہے کہ پنجابی ایک دلکش اور جذبات سے بھرپور زبان ہے جس کی جگہ کوئی دوسری زبان نہیں لے سکتی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گیتوں اور شاعری کے معاملے میں پنجابی کی تاثیر اور گہرائی کا کوئی مقابلہ نہیں، اور پنجابی شاعری اپنی مثال آپ ہے۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ ان کی پہلی فلم بول بھی پنجابی ثقافت سے جڑی ہوئی تھی، جس نے انہیں اس زبان کی خوبصورتی اور اظہاریت سے روشناس کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجابی کا سب سے نمایاں پہلو اس کا طاقتور اظہار ہے، جسے کسی بھی دوسری زبان سے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے پنجابی مکالموں کی ادائیگی پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکثر لوگ اسے "اردو جیسی پنجابی” قرار دیتے تھے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی مکالمہ سب کو یاد بھی رہ گیا جس پر اعتراض کیا جاتا تھا۔ ماہرہ کے مطابق پنجابی ڈائیلاگ یاد کرنا اور انہیں درست تلفظ کے ساتھ ادا کرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا، جس کے لیے باقاعدہ محنت درکار تھی۔
اداکارہ نے بتایا کہ فلم بول کے دوران حمزہ علی عباسی ان کے پہلے استاد بنے، جبکہ علی عظمت اور دیگر ساتھی فنکار بھی رہنمائی کرتے رہے۔ شوٹنگ کے دوران ہر شخص اپنے انداز میں مشورہ دیتا تھا جس کی وجہ سے کردار میں گہرائی لانا ایک الگ چیلنج بن جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی زبان مادری نہ ہو تو اسے درست اتار چڑھاؤ کے ساتھ بولنا بے حد مشکل ہوتا ہے، لیکن محنت اور لگن کے ساتھ انہوں نے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ ماہرہ کے مطابق پنجابی لہجے کی یہ ابتدائی مشقیں نہ صرف ان کے فن میں وسعت کا سبب بنیں بلکہ بعد کے پروجیکٹس اور تقریبوں میں ان کے اظہار کو مزید پختہ کر گئیں۔

