50 برس بعد، انسان کا چاند کی جانب سفر

امریکہ ایک بار پھر چاند کو فتح کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور تقریبا 50 برس کے وقفے امریکی خلائی ادارے ناسا کا مشن ارتمیس-2 چاند کی جانب جانے کے لئے تیار ہے۔ اس مشن کو یونانی اساطیر میں چاند کی دیوی ارتمیس سے موسوم کیا گیا ہے جو اپالو دیوتا کی بہن سمجھی جاتی ہے۔

10 روزہ ارتمیس-2 مشن میں چار خلا بازوں کو چاند کے گرد سفر کا موقع ملے گا

انسان کو تقریباً 50 سال کے بعد چاند کی طرف لے جانے والا پہلا چاند مشن فروری کے پہلے ہفتے میں روانہ ہو گا لیکن یہ مشن صرف چاند کی طرف جائے گا، چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

انسانی مشن کے لیے ناسا کے دیوہیکل سپیس لانچ سسٹم ایس ایل ایس مون راکٹ اور اوریون سپیس کیپسول کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 98 میٹر بلند سپیس لانچ سسٹم کوتقریباً بارہ گھنٹوں میں گاڑیوں کی اسمبلی بلڈنگ سے عمودی حالت میں چار میل (6.5 کلومیٹر) کے سفر کے بعد لانچ پیڈ تک پہنچایا گیا۔

10 روزہ ارتمیس-2 مشن میں چار خلا بازوں کو چاند کے گرد سفر کا موقع ملے گا، تاہم روانگی سے قبل اب ایس ایل ایس اور سپیس کیپسول کے حتمی ٹیسٹ، جانچ اور ایک ’ڈریس ریہرسل‘ کی جائے گی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ سب ٹھیک رہا تو 6 فروری کو مشن روانہ کیا جا سکتا ہے، تاہم مارچ اور اپریل میں بھی لانچ کے مزید مواقع موجود ہیں۔

خلائی جہاز چاند کے گرد مدار میں داخل ہوگا اورچاند کے اُس حصے کے پیچھے سے گزرے گا جو زمین سے نظر نہیں آتا

اپالو پروگرام میں انسان پہلی بار چاند پر پہنچا تھا، اور اب ارتمیس کے تحت پہلی خاتون یا رنگ دار نسل کی نمائندہ شخصیت اور ایک بین الاقوامی شراکت دار ملک کے خلا باز کو چاند کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔

ارتمیس-2 ایک دس روزہ خلائی مشن ہے جس میں ناسا کے خلاباز ریڈ وائزمن، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوک اور کینیڈا کے خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہوں گے۔ خلائی جہاز چاند کے گرد مدار میں داخل ہوگا اورچاند کے اُس حصے کے پیچھے سے گزرے گا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

ارتمیس-2 ممکنہ طور پر انسانوں کو زمین سے سب سے زیادہ فاصلے تک لے جائے گا یعنی کہ اپالو-13 مشن سے بھی آگے۔ ارتمیس 2 مشن کم مدارِ زمین (Low Earth Orbit) سے باہر انسانوں کا پہلا سفر ہوگا جس میں ایک خاتون، ایک سیاہ فام خلاباز اور ایک کینیڈین شہری شامل ہوں گے، جو اسے سائنسی کے ساتھ سماجی لحاظ سے بھی تاریخی بناتا ہے۔

ارتمیس-2 میں قمری لینڈر یا چاند گاڑی ہی موجود نہیں ہے

لیکن چاند پر لینڈنگ کیوں نہیں؟ یہ سوال سب سے زیادہ پوچھا جا رہا ہے اور اس کا جواب سادہ مگر سائنسی ہے وہ یہ کہ ارتمیس-2 میں قمری لینڈر یا چاند گاڑی ہی موجود نہیں ہے۔

ارتمیس-1 (2022) ایک بغیر عملے کے مشن تھا جس نے چاند کے مدار کا چکر لگایا۔ ارتمیس-2 میں پہلی بار انسان شامل ہو رہے ہیں، اس لیے توجہ لینڈنگ نہیں بلکہ انسانوں کو زندہ، محفوظ اور مستحکم رکھنے پر ہے۔