اسلام آباد ‘نو گو ایریا’ میں تبدیل: پاک امریکہ ایران مذاکرات کا فیصلہ کن دور، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، ٹرانسپورٹ 10 روز کے لیے بند

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کے ممکنہ دوسرے دور کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، اسلام آباد اور راولپنڈی کو عملی طور پر سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت تمام ٹرانسپورٹ اڈے، ٹورازم سروسز اور رینٹ اے کار سروسز 26 اپریل تک بند رہیں گی۔ اس دوران دیگر اضلاع سے جڑواں شہروں میں داخل ہونے والی ٹریفک پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات اتوار کو ہونے والی اہم سفارتی سرگرمیوں اور عالمی وفود کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، جس کے لیے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کا مرکز 20 ارب ڈالر کا ایک بڑا معاہدہ ہے، جس کا مقصد خطے سے جنگ کے بادل چھٹانا اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔

مذاکرات کی میز پر 3 صفحات پر مشتمل ایک ابتدائی ڈرافٹ موجود ہے جس کے مطابق امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 20 ارب ڈالر جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ بدلے میں ایران کو اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محدود کرنا ہوگا۔

اگرچہ ابتدائی طور پر امریکہ نے صرف 6 ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی اور ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اب فریقین کے درمیان درمیانی راہ نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

معاہدے کی شرائط میں جوہری مواد کی منتقلی ایک بڑا ڈیڈ لاک بنی ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا تمام جوہری مواد امریکہ منتقل کرے، جسے تہران نے صاف مسترد کرتے ہوئے ملک کے اندر ہی یورینیم کی افزودگی کم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

امریکہ نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ایران کی تمام جوہری تنصیبات زمین کے اوپر ہونی چاہئیں تاکہ ان کی نگرانی آسان ہو، جبکہ طبی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹر برقرار رکھنے پر بھی مشاورت جاری ہے۔

صدر ٹرمپ کے حالیہ مثبت بیانات اور پاکستان کی میزبانی نے ان مذاکرات سے بڑی توقعات وابستہ کر دی ہیں، جنہیں عالمی سطح پر ‘صدی کا اہم ترین امن عمل’ قرار دیا جا رہا ہے۔