لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم؛ صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا خطے میں امن کے لیے ‘بڑی پیش رفت’ قرار
اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و سکون کی بحالی کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان میں صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے کے استحکام کو اولین ترجیح دیتا ہے اور پائیدار امن صرف مذاکرات، خودمختاری کے احترام اور عالمی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا میں مستقل امن کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کا حل ناگزیر ہے، اور پاکستان اس سلسلے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر اپنے بیان میں اس اہم سفارتی کامیابی کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں دانشمندانہ سفارتی کوششوں نے لبنان میں جنگ بندی کو ممکن بنایا ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں امن کے لیے ہر مخلصانہ کوشش کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
صدر آصف زرداری نے اپنے بیان میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے وسیع تر مفاد میں لبنان کا تحمل بھی شامل تھا، جس کی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی گئی۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی قسم کا انحراف یا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل دوبارہ کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
صدر اور وزیراعظم دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن کی جانب پیش رفت کا ایک سنہرا موقع ہے اور تمام فریقین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔

