"ٹرمپ کارڈ چل گیا”؛ اسرائیل اور لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی، بیروت میں جشن اور ہوائی فائرنگ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے سفارتی بریک تھرو کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے تحت اسرائیل اور لبنان 10 روزہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ان کی براہِ راست بات چیت کے بعد یہ معاہدہ ممکن ہوا، جس کا نفاذ شام 5 بجے (امریکی وقت) سے شروع ہو گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو اس عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ 34 سال بعد دونوں ممالک کے نمائندوں کی واشنگٹن میں پہلی بار براہِ راست ملاقات بھی ہوئی ہے۔

جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور ہوائی فائرنگ کر کے جشن منایا، جبکہ تہران میں بھی حزب اللہ کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند ہوئے۔

پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے حزب اللہ کو اس جنگ کا فاتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی مدد کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان علی فیاض نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل لبنانی سرزمین پر حملے مکمل بند کرے اور 2 مارچ (آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد کی جوابی کارروائی) سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جائے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی تاحال انتہائی نازک موڑ پر ہے کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کو پائیدار امن کی بنیادی شرط قرار دیا ہے، جسے حزب اللہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

حزب اللہ کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل لبنانی علاقوں پر قابض ہے، وہ دفاع کا حق استعمال کرتے رہیں گے۔

صدر ٹرمپ نے فریقین کے مابین اعتماد سازی کے لیے جلد اسرائیل اور لبنان کے دورے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

اس 10 روزہ وقفے کو خطے میں مستقل امن کی جانب ایک ‘آزمائشی مرحلہ’ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی کامیابی کا دارومدار فریقین کے تحمل پر ہوگا۔