اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر پاکستان کے لیے ایک اور بڑی معاشی کامیابی سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے پاس رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو رول اوور کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کر لیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں سعودی فنڈ برائے ترقی (SFD) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے درمیان اس معاہدے پر دستخط ہوئے، جس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔
معاہدے پر سعودی فنڈ کی جانب سے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان المرشد اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ معاہدہ پاک-سعودی دیرینہ اور مضبوط اقتصادی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس سے پاکستان کے بیرونی مالی استحکام کو مزید تقویت ملے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے، جس کے بعد اب 3 ارب ڈالر کے پرانے ڈپازٹس کی مدت میں توسیع سے ملکی معیشت پر پڑنے والا بڑا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات (UAE) کو ساڑھے 3 ارب ڈالر کی بھاری ادائیگی کرنی ہے، جبکہ یو اے ای نے اپنے ڈپازٹس رول اوور کرنے سے معذرت کر لی تھی۔
اس کے علاوہ پاکستان نے حال ہی میں یورو بانڈ کی میچورٹی کی مد میں بھی ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بروقت تعاون اور ڈپازٹس رول اوور کرنے سے زرمبادلہ کے ذخائر میں یکدم بڑی کمی کا خطرہ ٹل گیا ہے اور پاکستان کو اپنی بین الاقوامی ادائیگیاں بروقت کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

