غزہ پر اسرائیلی جارحیت رمضان کے مقدس مہینے میں بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں اب تک 50 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بےگھر اور بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکے ہیں۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق فلسطینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ میں فضائی کارروائی کے دوران حماس کے سینئر رہنما صلاح البرداویل اور ان کی اہلیہ کو شہید کر دیا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اتوار کے روز رفح اور خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 30 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں میونسپل عہدیدار اور طبی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویشے ایڈرائی نے اعلان کیا کہ جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں تل السلطان کے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعد ازاں، فوج نے اعلان کیا کہ تل السلطان کا مکمل محاصرہ کر لیا گیا ہے، اور کئی عمارتیں منہدم کر دی جائیں گی تاکہ اسرائیلی سیکیورٹی زون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کے مطابق 50 ہزار سے زائد شہری رفح میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں اسرائیلی حملوں کے باعث عام شہریوں، ریسکیو ٹیموں اور طبی عملے کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
پناہ گزینوں کی بڑی تعداد، مسلسل حملے اور ناکہ بندی کے باعث غزہ میں خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ فلسطینی اور بین الاقوامی اداروں نے قحط کے شدید خطرے سے خبردار کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزید جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔
اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور جنگی جرائم پر عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ فلسطینی عوام بے سروسامان ہیں، مگر ان کی مزاحمت اور حوصلے آج بھی بلند ہیں۔

