حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت و سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہو گا: وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب

نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کیا ہے، تاہم حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو صریحاً اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی سورۃ الانفال کی آیت 61 کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے 24 کروڑ عوام کی نمائندگی کو باعثِ اعزاز قرار دیتے ہوئے جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر خلیل الرحمان اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے سفارت کاری کو فروغ دیتے ہوئے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک میز پر بٹھایا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی امن کا ضامن قرار دیا۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی ہماری ریڈ لائن ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

بھارت کو متنبہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے، پانی کو ہتھیار بنانے کی غلطی نہ کی جائے کیونکہ اسے اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے گزشتہ سال بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر فورسز کی تعریف کی اور تنازع کو بڑھنے سے روکنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا اور اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ انہوں نے غزہ، لبنان اور شام پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تاکید کی جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

علاوہ ازیں انہوں نے افغانستان سے ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) اور بی ایل اے (فتنہ الہندوستان) کی سرپرستی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور دنیا پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی ایک لاکھ جانوں اور 150 ارب ڈالر کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔