امریکا اور ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں: چینی صدر شی جن پنگ کا صدر ٹرمپ سے مطالبہ

واشنگٹن: چین کے صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کے دوران زور دیا ہے کہ امریکا اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں جنگ و کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

امریکی صدر کی دعوت پر واشنگٹن پہنچنے پر صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ کا پرشکوہ اور پرتپاک استقبال کیا۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات میں ایران، تائیوان، دوطرفہ تجارت، سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) سمیت اہم عالمی و علاقائی امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا اور ایران کے درمیان جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے سمجھوتے کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایک جامع معاہدے تک پہنچیں گے۔

تائیوان کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ امریکا ’تائیوان کی آزادی‘ کی مخالفت کرے اور اس معاملے کو انتہائی احتیاط سے سنبھالے۔

وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب کے دوران چینی صدر نے دونوں بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تصادم کے بجائے پرامن بقائے باہمی، تعلیمی و ثقافتی تبادلوں اور دوطرفہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ چین کی طرف سے امریکا کو دو پانڈا تحفے میں دینے کا بھی اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات اور باہمی احترام قائم ہے، اور اس دورے کے فیصلے آنے والی دہائیوں تک عالمی امن اور خوشحالی کے فروغ کا باعث بنیں گے۔