پی ٹی آئی لانگ مارچ: اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز تعینات

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو مجوزہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اسلام آباد سمیت پنجاب کے حساس اضلاع میں پاک رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، جبکہ کسی بھی پرتشدد کارروائی یا حملے کی صورت میں رینجرز اور پولیس کو مناسب جوابی ایکشن لینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومتِ پنجاب کی درخواست پر پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال اور میانوالی میں رینجرز کو قانونی اختیارات کے ساتھ طلب کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ انتشاری اور مسلح جتھوں کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں رینجرز اور پولیس اپنے دفاع اور امن و امان کے قیام کے لیے ہر ضروری اور فوری جوابی قدم اٹھائے۔

لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی اور ناکابندی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ریڈ زون کے تمام انٹری پوائنٹس کو کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کر کے سیل کر دیا گیا ہے اور متعدد چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کو پنجاب سے ملانے والے اٹک پل پر بھی پشاور سے آنے والے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیاں، اٹک میں 5 ونگز، جبکہ جہلم اور میانوالی میں ایک ایک کمپنی 5 اکتوبر 2026ء تک تعینات رہے گی۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کی نظر بندی اور گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔