اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ کے پی حکومت کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ آئین، قانون اور پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے طے شدہ قواعد و ضوابط سے متصادم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی سے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے گئے بلکہ پوری فورس کے کمانڈ اسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے، تاکہ انسپکٹر جنرل سے لے کر ڈی ایس پی تک تمام تعیناتیاں اور تبادلے وزیراعلیٰ کی جیب اور سیاسی کنٹرول میں آ جائیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وہ صوبہ جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہے، وہاں کی سی ٹی ڈی (CTD) آج بھی کرائے کی عمارتوں میں کام کر رہی ہے اور سپاہی بلٹ پروف جیکٹس کے بغیر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ تاہم صوبائی حکومت فورس کا مورال بلند کرنے کے بجائے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو روکنے کے لیے قانونی اور پارلیمانی آپشنز موجود ہیں اور اس معاملے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کیا جائے گا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ کے حوالے سے راستوں کی بندش پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے مکمل طور پر کھلے ہیں اور قانون کے مطابق شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

