اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے حقِ دفاع اور جواب کا استعمال کرتے ہوئے 23 ستمبر کو افغانستان کے اندر ان 10 مخصوص مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جو پاکستان میں دراندازی کے لیے ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی غیر قانونی اور دانستہ دراندازی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے یہ اقدام پاکستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، جسے پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت ناکام بناتے ہوئے تمام 8 ڈرونز کو اہداف سے قبل ہی تباہ کر دیا تھا۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان کے جوابی فضائی حملے انتہائی درست، متناسب، محتاط اور صرف ان شناخت شدہ عسکری اہداف تک محدود رہے جو پاکستان پر کیے گئے حملوں سے براہِ راست منسلک تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں یا افغان طالبان حکومت کی جانب سے ہونے والے کسی بھی حملے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام دشمنانہ سرگرمیاں اور دہشت گرد عناصر کی سرپرستی فوری بند کرے اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف موثر و قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا اور پرامن مذاکرات کا حامی ہے، تاہم اس پالیسی کو ہماری کمزوری یا لامحدود برداشت نہ سمجھا جائے، پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا۔

