ایران سے ڈیل ہوگی یا اسے تباہ کردیں گے، بڑا فیصلہ کرنا ہے: ٹرمپ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں، جس میں تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا یا اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے تفصیلی خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور محفوظ ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ملک میں جرائم، غربت اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد میں ریکارڈ کمی کی ہے جبکہ امریکی معیشت اور فوج دنیا کی سب سے مضبوط قوتیں بن کر ابھری ہیں۔

ایران کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی معیشت، ایئرفورس اور نیوی شدید متاثر ہو چکی ہیں اور وہاں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے پا جائے گا، تاہم اس سے پہلے دنیا کے تمام ممالک کو ایران کا معاشی بائیکاٹ کرنا ہو گا۔

اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ایٹمی پڑوسیوں کے درمیان تصادم ختم کروا کر لاکھوں جانیں بچائیں، اور اس کا کریڈٹ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو "بہترین انسان” قرار دیا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے غزہ، کانگو اور روانڈہ میں بھی جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے مجموعی طور پر 8 جنگیں رکوانے کا دعویٰ کیا۔

امریکی صدر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تمام رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس ادارے سے الگ ہو جائیں، کیونکہ وہ کسی بھی غیر ملکی یا ‘امریکا مخالف’ ٹریبونل کو اپنے شہریوں یا فوجیوں پر دائرہ اختیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) میں امریکی پیش رفت کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کیوبا کو ناکام ریاست قرار دیا، جس پر کیوبن وفد نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔