این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف محمد رضوان کی درخواست مسترد، پی سی بی نے میڈیا ٹاک سے بھی روک دیا

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے (NCCIA) کی انکوائری اور طلبی کے نوٹس کے خلاف دائر کردہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے محمد رضوان کے خلاف آن لائن بیٹنگ اور غیر قانونی مالی فائدے کے الزامات کی تفتیش پیکا ایکٹ 2016 کے تحت کر رہی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئی سی سی کے ڈسپلنری کوڈ کا وجود کسی قانونی اور مجاز ریاستی ادارے کی فوجداری انکوائری میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔

عدالت نے محمد رضوان کو انکوائری میں مکمل تعاون کی ہدایت کی جبکہ این سی سی آئی اے کو پابند کیا کہ کرکٹر کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے اور ضبط شدہ سامان کی واپسی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔

دوسری جانب، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی محمد رضوان پر میڈیا سے گفتگو کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق رضوان نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد اپنے موبائل فون کی ضبطی، آئی سی سی کو لکھے گئے خط اور اپنے اوپر لگے الزامات کی تفصیلات پبلک کرنے کے لیے بورڈ سے دو مرتبہ میڈیا ٹاک کی اجازت مانگی تھی، تاہم پی سی بی نے معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کا جواز بنا کر اجازت دینے سے انکار کر دیا۔