بابراعظم کا دوبارہ ٹیسٹ کپتانی لینا غلط فیصلہ تھا، وسیم اکرم

مانچسٹر: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے بابر اعظم کے دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سنبھالنے کو غلط فیصلہ قرار دیتے ہوئے ان پر کڑی تنقید کی ہے۔

مانچسٹر میں سابق کپتان وقار یونس کے ساتھ ایک چیریٹی فنڈ ریزنگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں 7 کھلاڑیوں اور کوچ کی تبدیلی سے بابر اعظم کے لاعلم ہونے کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وسیم اکرم نے کہا کہ اگر کپتان کو ٹیم میں اتنی بڑی تبدیلیوں کا علم ہی نہیں تھا تو پھر وہ ٹاس کے موقع پر کیا چھولے یا چنے بیچنے آئے تھے؟

سابق فاسٹ باؤلر کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ایک کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا نہ ہو اور ان کی سائیڈ نہ لے، تب تک کھلاڑی اپنی 100 فیصد کارکردگی نہیں دے سکتے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے بعد جو کچھ ہوا، بابر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ کپتانی سے دستبردار ہو کر بورڈ کو صرف بطور کھلاڑی کھیلنے کا بتاتے۔ واضح رہے کہ انگلینڈ نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست دی تھی۔