علیمہ خان کے بعد عمران خان کی دیگر دو بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 3 ایم پی او کے تحت نظر بند

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج سے قبل کریک ڈاؤن تیز ہو گیا ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی دیگر دو بہنوں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو بھی 3 ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ڈپٹی کمشنر لاہور نے پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارشات پر نقصِ امن عامہ اور امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر دونوں بہنوں کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کیے۔

پولیس نے علیمہ خان کی رہائش گاہ کے قریب رات گئے کارروائی کرتے ہوئے نورین نیازی، عظمیٰ خان اور ان کے اہلخانہ کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم بعد میں بچوں اور دیگر افراد کو چھوڑ دیا گیا جبکہ دونوں بہنوں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران علیمہ خان کے بیٹوں شیر شاہ اور شاہ ریز کو بھی حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل نورین نیازی کی بیٹی ہاجرہ نیازی اور داماد کو کچھ دیر مختلف تھانوں میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز علیمہ خان کو بھی لٹن روڈ پولیس نے 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔