راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کے متوقع لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی انتظامیہ نے سخت سیکیورٹی تدابیر اختیار کرتے ہوئے درجنوں تعلیمی اداروں کو سیکیورٹی فورسز کے لیے خالی کروا کر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور مضافاتی علاقوں کے 24 سرکاری تعلیمی ادارے 22 ستمبر سے بند رہیں گے، جبکہ راولپنڈی کے 48 اسکول بیرون اضلاع سے بلائی گئی پولیس نفری کی رہائش کے لیے پولیس کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ عارضی انتظامات کے تحت پرنسپلز اور غیر تدریسی عملہ ڈیوٹی پر موجود رہے گا تاہم اساتذہ اور طلبہ کے لیے تعلیمی سرگرمیاں فی الحال معطل رکھی گئی ہیں۔
دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 22 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار اور 8 ڈی آئی جیز تعینات کیے جا رہے ہیں جبکہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر راولپنڈی پولیس کی چھٹیاں یکم اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے فیض آباد، چونگی نمبر 26، روات، چکری اور بھارہ کہو سمیت جڑواں شہروں کے 30 سے زائد داخلی راستوں پر کنٹینرز پہنچا کر راستے بند کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

