سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت لیں گے: ترک وزیر خارجہ

انقرہ: ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان (ہاکان فیدان) نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی عرب کو درپیش عسکری ضروریات کا جائزہ پاکستان کے ساتھ ‘مکہ معاہدے’ کے فریم ورک کے تحت لیا جائے گا اور اس اتحاد کے تحت مجوزہ سیکرٹریٹ و ملٹری ہیڈکوارٹرز کو فعال کرنے پر کام جاری ہے۔

ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی اور رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حاقان فیدان نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو امریکا-ایران جنگ کا حصہ بنانا ناقابلِ قبول ہے کیونکہ ریاض خود اس تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ نے یمن اور خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو تجاویز ارسال کر دی ہیں اور مشرق وسطیٰ کا بحران اب معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ روس اور یوکرین کو بھی بحیرہ اسود میں لڑائی بند کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔