لاہور: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر 30 دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق علیمہ خان اپر مال پر واقع اپنے گھر سے جم خانہ جانے کے لیے نکلی تھیں کہ لٹن روڈ پولیس نے انہیں ڈرائیور محمد امیر سمیت حراست میں لے لیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش اور پولیس رپورٹس کی روشنی میں امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی 30 روزہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
علیمہ خان کی گاڑی کو مزنگ تھانے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ حراست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے علیمہ خان کی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشیدگی کو ہوا دینے اور حالات خراب کرنے کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا مارچ پُرامن اور آئینی مطالبات کے لیے ہے اور ہم کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے، لہٰذا حکومت علیمہ خان کو فوری رہا کرے اور ایسے اقدامات کا سلسلہ روکے۔
دوسری جانب علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موکلہ کی تمام مقدمات میں ضمانتیں منظور ہو چکی ہیں۔

